Posted by: YWB | August 14, 2010

پیوستہ رہ شجر سے اُمیدِ بہار رکھ


A short story i wrote a while back….


اسلام آباد شہر کی سڑکیں رات کی بارش سے دھل کر نکھر گئیں تھیں اور ہر چیز صاف ستھری نظر آرہی تھی۔ اگست کی ٹھنڈی اور پُرسکون صبح کو ایک سفید داڑھی اور نورانی چہرے والا بوڑھا شخص ہر روز کی طرح ہاتھ میں ایک چھوٹے سے شاپر میں چڑیوں کی خوراک ڈالے پارک کی طرف جارہاتھا کہ اچانک کسی چیز نے اُسے ٹھٹک کر رک جانے پر مجبور کر دیا۔ عینک کو آنکھوں پر ٹھیک کرتے ہوئے زمیں پر جھک کر اُس چیز کو اُٹھایا اور مٹی جھاڑ کر ہاتھ میں پکڑے شاپر میں ڈال دیا۔

گھر آکر اُس بوڑھے شخص نے اپنے کمرے کی الماری کا ایک خانہ کھولا اور اُس کو بڑی عقیدت سے الماری میں رکھ کر دروازہ بند کر دیا۔

∞∞∞∞∞∞∞∞∞

“کون ہوتم؟” نجانے کس نے اُس سے پوچھا تھا۔

“یہ بھی کوئی ہم جیسا ہی لگتا ہے.” ایک طرف سے طنز بھری آواز سنائی دی۔

“ہاں حالت تو ہم جیسی ہی ہے۔” کسی اور نے بھی گفتگو میں شامل ہونا اپنا فرض سمجھا۔

وہ جو اب تک اندھیرے سے مانوس نہیں ہوا تھا, آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر چاروں طرف دیکھ رہاتھا۔ جوں ہی آنکھیں اندھیرے سے کچھ مانوس ہوئیں وہ بولے بنا نہ رہ سکا۔

“تم لوگ کون ہو؟” اُس کی آواز میں صاف لرزش محسوس کی جاسکتی تھی۔

“ہم لوگ۔۔۔؟ پچھلے سال 14اگست کو لوگوں نے ہمیں اپنے گھروں کو سجانے کےلیے استعمال کیا گیا تھا۔” ایک دکھ بھری آواز میں کوئی اپس سے مخاطب تھا۔

“بالکل تمہاری طرح۔” کسی اور نے لقمہ دینا ضروری سمجھا۔”

“نجانے اِس سجھاوٹ کا مقصد کیا ہے۔” ایک اور آواز نے اُس کو اپنی طرف مت متوجہ کیا۔

“جن بنیادوں پر یہ ملک بنا تھا وہ تو وقت کی گرد میں اس قدر چھپ گئی ہیں کہ اب شاید ہی کوئی جانتا ہوگا کہ یہ ملک بنا کیوں تھا۔”  ایک کونے سے ایک بوڑھی آواز سنائی دی۔

“ہاں اور یاد رہا تو یہ دن۔۔۔یہ تاریخ ۔۔۔ لوگ اس دن پارٹیز کرتے ہیں، گانے بجانے کے ساماں بھی ہوتے ہیں جو رات گئے تک چلتے ہیں اور جب صبح فجر کی آذانوں کی آواز سنائی دیتی ہے تو یہ لوگ گھروں میں جاکر سو جاتے ہیں۔” یہ جو کوئی بھی تھابہت غصے میں لگ رہاتھا۔

“ہاں سہی کہتے ہو۔۔۔اور جس پرچم کو گھروں کی چھتوں پر سجاتے ہیں اُس کو پھر اگلے سال تک سٹور کے ایک کونے میں ڈال کر بھول جاتے ہیں۔ مگر مجھے افسوس اپنے یہاں اندھیرے اور گرد آلود جگہ پر پڑے ہونے کا نہیں بلکہ دکھ تو اس بات کا ہے کہ یہ دن بس ایک تہوار بن کر رہ گیا ہے۔ قومی پرچموں کی حرمت کا بھی احساس نہیں ہے اِن لوگوں کو۔ اس زمیں کی عزت اور وقار کا بھی احساس ختم ہے چکا ہے۔”  وہی آواز دوبارہ سنائی دی جس میں غصہ تھا۔

“تم احساس کی بات کرتے ہو؟ کون سا احساس یہاں انسانیت اپنی آخری سانسیں لے رہی ہے اور تم کو احساس کے مفقود ہونے کا غم کھائے جارہا ہے؟” یہ وہی آواز تھی جس نے اُس کا استقبال کیا تھا۔

“ہاں سکولوں، کالجوں سے چھٹی، دفتر بند، ان کو اور چاہیے بھی کیا۔ یہی ہے اِن کی نظر میں 14 اگست۔”

“کیا جولوگ چلے گئے ہیں جنہوں نے اتنی تگودو کے بعد یہ ملک حاصل کیا تھا، کیا اِس لیے کہ یہاں کے لوگ ہی اپنے اصل کو بھول جائیں۔”

“کچھ  سنا تم لوگوں نے۔۔۔۔” ایک ہانپتی ہوئی آواز سنائی دی، جیسے وہ بہت دور سے بھاگتاآرہا ہو۔ سب ہی اُس کی طرف پریشانی سے دیکھنے لگے۔

“ایک گاوّں میں چار بچوں کو مذہب کے نام پر ہراست میں لے لیاگیا ہے۔”

“او۔۔۔” سب کے چہروں سے دکھ جھلکنے لگا۔

“یہ سب کیا ہورہا ہے۔ اب کیا اس ملک میں انسان کو شخصی آزادی بھی نہیں رہی؟” یہ وہی غصے والی آواز تھی جو شروع میں سنائی دی تھی۔

“اور جانتے بھی ہو کہ اُن بچوں کے ساتھ کیسا سلوک کیا جارہاہے؟” وہی آواز دوبارہ سنائی دی، سب ہی اُس کی طرف متوجہ تھے۔

“اُن میں سے ایک بچے کوasthma ہے مگر اُس کو اُن لوگوں نے شدید ٹھنڈے کمرے میں رکھا ہوا ہے جبکہ باقی بچوں کو انتہائی شدید گرمی میں اور ان بچوں کی عمریں 16 سال سے زیادہ نہیں ہیں۔ اس قدر گرمی ہے آج کل کہ درجہ حرارت 50ڈگری تک پہنچ رہا ہےاور ایسے میں معصوم بچوں کے ساتھ ایسا سلوک۔” بات کرتے ہوئے اُس کے چہرے اور آواز میں دکھ ہی دکھ تھا۔ کوئی رشتہ بھی تو نہیں تھااُن سب سے مگر پھر بھی سب کے چہروں سے اذیت جھلک رہی تھی۔

“واہ یہ ہے ہمارا آج۔” وہی غصے والی آواز دوبارہ گونجی۔

“جب ہمارا آج ایسا ہے تو آنے والا کل کیسا ہوگا۔ کل 14اگست تھا، اِن لوگوں نے ہم سے گھر سجا لیے مگر یہ بھول گئے کہ اِسی پرچم کےلیے کتنی قیمتی جانیں گئیں ہی، کتنے لوگوں نے مستقبل میں آگے بڑھنے کے بہت بڑے اور اچھے مواقع چھوڑ کر جدوجہد میں لگ گئے۔ کس لیے؟ اِس ملک کا ڈاؤں فال شروع ہو چکا ہے۔ جس ملک کے لوگوں میں انسانیت کا نام ونشان باقی نہ رہے ، جہاں ضمیر میٹھی نیند سو رہے ہوں، وہ ملک صرف ڈاؤن فال کا سفرہی کر سکتا ہے اور بہت تیزی سے کرتا ہے۔” کیا نہیں تھا اِس آواز میں، غم،غصہ،بےبسی، دکھ اور مایوسی۔ سب خاموش اور گہری سوچوں میں ڈوبے ہوئے تھے۔

پھر خاموشی کواُسی بوڑھی آواز نے توڑاجو نجانے کیوں کب سے خاموش تھی۔

“تم سب لوگوں پر اتنی قنوتیت کیوں طاری ہوگئی ہے؟ اتنے افسردہ اور مایوس کیوں ہوگئے ہو؟ ٹھیک ہے مانا کہ حالات ایسے نہیں ہیں جیسے ہم سب نے چاہے تھے۔ ہاں یہ ملک تب تک ڈاؤن فال کا سفر کرتا رہے گا جب تک تم اور ہم اپنا اپنا محاسبہ نہیں کر لیتے، جب تک ہم یہ نہیں دیکھیں گےکہ ہم بذاتِ خود پاکستان کے لیے کیا کر رہے ہیں، کون ساایسا کام کر رہے ہیں جس سے یہ ملک بلندیوں کا سفر کرے تب تک سب ایسے ہی رہے گا۔

بہت سے لوگ باہر کی دنیا کی نظروں میں پاکیستان کی ایک غلط پہچان بنا رہے ہیں، بہت سے لوگوں کے لیے آج بھی یہ دن صرف ایک تہوار اور ایک چھٹی کا دن ہے مگر تم سب شاید اُن لوگوں کی طرف دیکھنا بھول گئے ہے جو اِس دن الصبح اُٹھ کر بڑے احتمام سے خود اور اپنے بچوں کو مسجد لے کر جاتے ہیں، تہجد کی نماز ادا کرتےہیں اور جہاں یہ لوگ اِس ملک کی سلامتی اور بقا کی دعائیں کرتے ہیں وہاں وہ لوگ خداکا شکرادا کرنا بھی نہیں بھولتے۔

یا شاید تم اُن معصوم بچوں کے چہروں سے چھلکتی وہ خوشی نہیں دیکھ پائے جو اِس دن اُن کے چہروں پہ احاطہ کیے ہوتی ہے، جب وہ سارے گھر کو اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں سے سجاتے ہوئے قومی نغمے گارہے ہوتے ہیں۔ کبھی تم غور کرنا تو تمہیں پتا چلے گا کہ اُن کی آواز میں دنیا جہاں کی کوشی موجود ہوتی ہےاُن کی آواز میں ایک فخر شامل ہوتا ہے، اپنے پاکستانی ہونے کا۔

یہی تو وہ بچے ہیں جو کئی کئی دن تک قومی پرچم کو چھت سے نہیں اُتارتے کیونکہ اُنہیں اپنے گھر کی چھت پر لہراتا ہوا یہ پرچم بہت اچھا لگتا ہے۔

جن لوگوں کے رویوں کا آج تمہیں دکھ ہو رہاہے وہ لوگ ہمارا مستقبل نہیں ہیں۔ ہمارا مستقبل یہ بچے ہیں ہمیں انہیں اچھی طرح پروان چڑھانا چاہیے نہ کہ یوں خود پر قنوطیت طاری کر کے یوں مایوس ہو کر بیٹھنا چاہیے۔ شایدہمارے یہ بچے ہی ہم بڑوں کو اس دن کی اہمیت دلا سکیں۔

ہمارے قومی شاعر ہی نے تو کہا ہے کہ

پیوستہ رہ شجر سے اُمیدِ بہار رکھ

Advertisements

Responses

  1. Nice piece! But I’m not entirely sure if ‘masoom bachon’ ki khushi is the way forward :S Nevertheless, optimism is the key 🙂

  2. but na-umeedi gunah hai… whenever you talk to anyone they are always hopeless about Pakistan… no one thinks Pakistan has a future…

    you missed a point..”bachon ki kushi” nahi balkay bachon ki parwarish aur tarbiyat… there is a beautiful quote i want to share with you “Nations cannot be reformed without the reformation of the youth”
    So its very important to understand how we are raising our nxt generation 🙂

  3. ab yeh URDU MAI KON PERHAY 0_0

  4. sharam kar lo tohri si

  5. I like it…

    am sorry; can’t comment much… not in the mood or state…
    Take care
    Bye

  6. Cheeheeta!! 😉

    • 🙂 ABSAR SHAH

    • Uh :$ I read that, and I noticed it too, but I didn’t know what word to use in Urdu.. so :s Laikin ab khayal aa raha hai ke ‘zavaal’ use kar sakti ho 😛

  7. Why yes, I am from B.C.–it’s a great place!
    Where are you from?

    And unfortunately, my urdu-reading skills aren’t that great. Darn!

    Ramadan Mubarak! 🙂

  8. I keep coming back to this post.

    Those kids you were talking about – do you know what happens to them? They grow up. they become you and me. And they occasionally say a few words about how much they love their country, and how sad it makes them to see it in the state it is today. And you know what they do about it? Nothing. You and I, we say a few words every now and then, but we deserve no praise for them because they are so far removed from action, it’s laughable.

    And do you know what I’m going to do once I’m done with this comment? I’m gonna go continue to work for a Dutch company in the Middle East.

    • you are so RIGHT absar… we all have become numb i guess… we have so many excuses why we are not doing anything but all are pointless…

      I think Pakistan is being washed away because Allah knows we dont deserve it. We never cared enough for our independence we didnt contributed in the growth of our country….

      But my question to you is what you and i can do being so far away ? beside writing a post on every 14 August…

  9. nice story..ya hope should never be lost..nd sad that most of people seen around are pretty hopeless..

  10. *yawns*

  11. Nice post.


Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

Categories

%d bloggers like this: